نئی دہلی،26/ اپریل(ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں مسلمانوں کو حاصل 2Bمخصوص ریزرویشن کو ختم کرتے ہوئے اس ریزرویشن کو لنگایت او ر ووکلیگا طبقات میں تقسیم کرتے ہوئے بی جے پی حکومت نے جو سرکاری حکم نامہ جاری کیا تھا، اس پر سپریم کورٹ نے 9مئی تک روک لگا دی ہے اور کہا ہے کہ عدالت میں اس روز اس معاملہ پر اگلی سماعت ہو گی، اس وقت تک پرانے ریزرویشن نظام کو ہی رائج رکھا جائے،جس کے تحت مسلمانوں کو 4فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔
منگل کے روز اس سلسلہ میں سنٹرل مسلم اسوسی ایشن آف کرناٹکاکی طرف سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت کو یقین دلایا کہ 9مئی تک کرناٹک میں ریزرویشن کے نئے حکم نامہ پر عمل نہیں کیا جائے گا، اس کے بعد انہوں نے کیس کی سماعت کو ملتوی کردینے کی درخواست کی، جس پر عدالت نے اس جی او پر لگی ہوئی عبوری ر وک کو9مئی تک بڑھا تے ہوئے اس روز اس معاملہ کی سماعت کا فیصلہ سنایا۔
عرضی گزاروں کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل دشینت دوے نے معاملہ کو ملتوی کر دئیے جانے پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اگر اس عرضی کی سماعت کو ملتوی کر دیا جاتا ہے تو اس سے ان کے فریق پر اثر پڑے گا۔ اس مرحلہ میں سالیسٹر جنرل نے واضح کیا کہ اگلی سماعت تک بھی ریزرویشن سے متعلق حکومت کے تازہ جی او پر روک برقرا ر رہے گی او ر سابقہ نظام ہی رائج رہے گا۔عدالت نے سالیسٹر جنرل کے بیان کو ریکارڈ کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو ملتوی کردیا۔ اس عرضی پر سپریم کور ٹ میں 13اپریل سے سماعت جاری ہے۔گزشتہ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا پر مشتمل بینچ کو بتایا تھا کہ اگلی سماعت تک تقررات اور داخلہ سابقہ نظام کے تحت ہی کیا جائے گا۔ اس پر عدالت نے سماعت کو 25/اپریل تک ملتوی کیا تھا۔آج سالیسٹر جنرل نے ایک اور التواء کی گزارش کے ساتھ عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ میں حکومت کا حلف نامہ تیار ہے لیکن آج چونکہ وہ عدالت کی آئینی بینچ کے سامنے کیس کے سلسلے میں مصروف ہیں اس لئے کیاعدالت اس معاملہ پر اگلے ہفتہ سماعت کر سکتی ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس میں اس سے پہلے جو یقین دہانی کروائی گئی تھی وہ برقرار رہے گی۔اس پر سینئر وکیل دشینت دوے نے کہا کہ یہ چوتھی ترمیم ہے۔یہ معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے، سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقہ کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ جب سالیسٹر جنرل نے مشورہ دیا کہ اس معاملہ کی سماعت 9مئی کو کی جا سکتی ہے۔ دشینت دوے نے کہا کہ ایک اور التوا سے گرما کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی۔ دوے نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سالیسٹر جنرل کی یقین دہانی سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ وہ اس لئے کہ مسلمانوں کے ریزرویشن کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔
مسٹر مہتہ کا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ نئے داخلے اور بھرتیاں حالیہ سرکاری حکم نامہ کے تحت نہیں ہو گی۔ فائدہ اسی وقت ہو گا کہ2002کے نوٹی فکیشن کے تحت ریزرویشن جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔اس پر تشار مہتہ نے عدالت کو بتایا کہ سماعت کی اگلی تاریخ تک تازہ سرکاری حکم نامہ عدالتی نظر ثانی کے تحت رہے گا، اس لئے اسے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس جواب سے مطمئن جسٹس کے ایم جوزف نے فیصلہ سنایا کہ سالیسٹر جنرل نے یقین دلایا ہے کہ اگلی سماعت تک سابقہ نظا م ہی رائج رہے گا۔ اس لئے معاملہ پر دوبارہ سماعت 9مئی کو ہوگی، اس وقت تک 2002کے نوٹی فکیشن کے تحت مسلمانوں کو ریزرویشن ملتا رہے گا۔